نئی دہلی ،27؍دسمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل کی طرف ریاستی حکومت کی سرکاری خدمات کی ہوم ڈیلیوری سے متعلق پیشکش کو ٹکرانے کے ایک دن بعد وزیر اعلی اروند کیجریوال نے بدھ کو بیجل کے فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ دہلی کے فیصلے لینے کا حق کس کے ہونا چاہیے۔دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال نے ٹویٹ کر کے کہا ہے کہ ایل جی کہتے ہیں کہ کافی ڈیزیٹائزیشن ہوا ہے۔منتخب کی گئی سرکار کہتی ہے کہ ڈیزیٹائزیشن کو گھر گھر پہنچانے سے جوڑنا ہے۔ایل جی متفق نہیں ہیں۔تو سوال یہ ہے کہ جمہوریت میں ایسے حالات میں کس کی بات آخری ہونی چاہئے۔ایل جی کی یا منتخب حکومت کی؟راجدھانی دہلی میں رہنے والے لوگوں کو اچھے اور بدعنوانی سے پاک حکومت مہیا کرانے کی حکومت کی کوششوں کو بڑا جھٹکا بتاتے ہوئے منیش سسودیا نے نائب گورنر سے سوال کیا کہ عوامی مفاد کے ایسے سنگین مقدمات پر منتخب حکومت کیساتھ اس طرح سے نائب گورنر کو اپنے نظریاتی اختلافات کو ظاہر کرنے کی طاقت ہے کیا؟ ایک کے بعد ایک ٹویٹ میں منیش سسودیا نے کہا کہ حکومت اور ایل جی کی نظریاتی اختلافات کی وجہ سے عوام کو نقصان ہورہا ہے۔یہ مسئلہ ایک بار پھر کجریوال حکومت اور مرکز کے درمیان جنگ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر کے اسی طرح کے رویہ کی وجہ سے دہلی حکومت کورٹ کا رخ اپنا چکی ہے اور کورٹ میں یہ الزام لگایا ہے کہ حکومت کی قراردادوں اور منصوبوں پر ایل جی بیٹھے ہوئے ہیں۔منیش سسودیا نے کہا کہ نائب گورنر نے تجویز کو نظر ثانی کے لئے واپس بھیج دیا ہے۔آپ کو بتا دیں کہ لیفٹیننٹ گورنر نے ذات، پیدائش اور رہائشی سرٹیفیکیٹ، لائسنس، سماجی بہبود کے منصوبوں اور پنشن جیسے 40 سرکاری خدمات کو گھر تک پہنچانے کی تجویز کو خارج کر دیا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے اسے دوبارہ غور کرنے کے لئے واپس بھیجا ہے۔